6 جنوری 2016 - 19:58
دہشت گردی اورانتہا پسندی۔۔۔!

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہماری اس سر زمین پر خون کی ندیاں بہنے کے باوجود کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جنکی زبان سے آج دن تک مذمتی کلمات نہیں نکل سکے۔ وہ نہ صرف ان جہنمی کتوں سے آج بھی مذاکرات کے خواہاں ہیں بلکہ وہ دن رات انکے مسلمان ہونے کے فتوے دیتے بھی نہیں تھکتے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

بقلم سید تصورحسین نقوی ایڈووکیٹ

ابن تیمیہ کے فتاویٰ سے'' فکری غذا '' حاصل کرنے اور آلِ سعود کے ریالوں پر پلنے والے طالبان، داعش، لشکر ِ جھنگوی، جنداللہ ،آئی ایس ایس  اور انکی ''شریعت ''کے داعی، محافظ اور حقیقی وارث  ''سرخ مسجد'' کے برقعہ پوش مولوی کی '' تبلیغ'' کا فیض اندرون و بیرونِ ملک ہرگاہ خاص و عام جاری ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کونہ ایسا نہیں جہاں اس'' تبلیغ'' کا اثر نہ پہنچا ہوا ہو اور اس ''فیض '' سے کوئی مستفید نہ ہوا ہو۔  حال ہی میں برقعہ پوش'' امیر المومنین'' کی طرف سے حکومت  کے خلاف تحریک چلانے کے اعلان اور انکے  '' دستِ  شفقت '' سے تربیت پانے والی طالبات کی طرف سے داعش اور اسکے سربراہ ابوبکر بغدادی سے جہاد النکاح کی خواہشات کے اظہار کے فورا بعد امریکہ میں ہونے والے واقعہ کو بالواسطہ یا بلا واسطہ اسلام آباد کے وسط میں قائم اسی برین واشنگ کے ملکی و بین الاقوامی اڈے سے جوڑا جا رہا ہے۔ انٹر نیشنل میڈیا پر یہ بات کھل کر بیان کی جارہی ہے کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا کے علاقے سین برنارڈینو میں معذوروں کے مرکز پر مبینہ طور پر دہشت گرد انہ حملہ کرنے اور پولیس مقابلے میں ماری جانے  والی خاتون  تاشفین ملک کے اسلام آباد کی'' ریڈ مسجد''سے روابط کیساتھ ساتھ وہاں کے خطیب المشہور مولوی برقعہ پوش کے ساتھ تصویریں بھی بر آمد ہوئی ہیں ۔ ڈیلی میل نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ امریکی حکام کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونی والی تاشفین ملک نے سعودی عرب میں پرورش پائی مگر چار سال پہلے وہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے تعلیم حاصل کرنے واپس پاکستان چلی آئی تھی۔امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کے اس واقعہ اور پاکستان میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو اس میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں کہ ریڈ مسجد جہادی دلہے اور دلہنیں تیار کرنے کی عالمی شہرت کی حامل ایک ایسی '' درسگا ہ ''  بن چکی ہے کہ جہاں سے نہ صرف  '' بدمعاش حوروں''  تک آسان رسائی کی تبلیغ کی جاتی ہے بلکہ  '' پھٹنے'' کی صورت میں جنت کی ڈائریکٹ فلائٹ کا ٹکٹ  '' فتویٰ '' کی صورت میں دیا جاتا ہے۔   اسلام آباد کی ' ریڈ لائٹ''  کے  اس مشہور '' مرکز '' کے نہ صرف آئی ایس ایس، طالبان،  لشکر ِ جھنگوی، جنداللہ اور داعش  کے ساتھ براہ راست روابط کے ٹھوس شواہد متعلقہ حکام کے پاس موجود ہیں جسکا اظہار متعدد بار ذمہ دار فورمز پر بھی ہوچکا ہے بلکہ اس '' درسگاہ'' سے اعلانیہ طور پر دہشت گردوں اور انکی سوچ و فکر کی حمایت کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں لیکن ہماری عقل سمجھنے سے قاصر ہے کہ اب وہ کون سی ایسی وجوہات ہیں کہ ان لوگوں کے دنیا بھر کی دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں سے قریبی تعلق  اور انکی سوچ و فکر کو پروان چڑھانے کے ٹھوس شواہد ہونے او ر انکے خلاف اپنے ہی ملک کے فوجی اور سول اداروں کی طرف سے دی گئی رپورٹس پر عمل در آمد نہیں ہو رہا۔یہ ایک تلخ حقیت ہے جسے بحیثیت قوم ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ گذشتہ ادوار میںہماری حکومتوں کی دہشت گردی کے بارے میں دوہری پالیسیوں کے نتیجے میں آج واقعی ہمارا وطن دنیا بھر میں دہشت گردوں کے سب سے بڑے گڑھ کی شناخت اختیار کر چکا ہے۔  امریکی، اسرائیلی اور بھارتی سازش کے لالی پوپ دینے  اور لینے کے بجائے ہمیں یہ جاننا اور ماننا ہو گا کہ مسجدوں، امام بارگاہوں، تعلیمی اداروں،  ہسپتالوں، مقدس مقامات، غیر مسلموں کی عبادت گاہوں، اعلیٰ سول و فوج اداروں کے اہلکاروں پر آفت بپا کرنے والے خود کش حملہ آوروں میں ایک بھی بھارتی ، امریکی یا اسرائیلی نہیں تھا  بلکہ سب کے سب خود کش حملہ آور پاکستانی تھے اور اپنے آپ کو  '' مسلمان ''  کہلاتے تھے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہماری اس سر زمین پر خون کی ندیاں بہنے کے باوجود کچھ لوگ  ایسے بھی ہیں کہ جنکی زبان سے آج دن تک مذمتی کلمات نہیں نکل سکے۔  وہ  نہ صرف ان جہنمی کتوں سے آج بھی مذاکرات کے خواہاں  ہیں بلکہ  وہ دن رات انکے مسلمان ہونے کے فتوے دیتے بھی نہیں تھکتے۔ اس حقیقت کے ساتھ یہ کڑوا زہر بھی نگل لینا ہوگا کہ گذشتہ برسوں میں تسلسل کے ساتھ دنیا بھر میں ہونے والی انتہا پسندی اوردہشت گردی کے تقریبا  تمام بڑے واقعات میں یا تو پاکستانی استعمال ہوئے اوریا پاکستانی سرزمین پر اسکی پلاننگ کی گئی۔ آج اقوام ِ عالم کے سامنے پاکستان عسکریت پسندوں، انتہا پسندوں  اور دہشت گردوں کی جنت بنتاجا رہا ہے لیکن ہم خاموش ہیں۔  ہمیں ماننا ہو گا کہ دہشت گردی  چاہے امریکہ ، کینیا ،تنزانیہ ،یمن ،شام،انڈونیشیا ،برطانیہ، فرانس، افغانستان، بحرین میں ہو یا کسی اور ملک میں ہو پاکستانی یا تومبینہ طور پر بالواسطہ یا بلا واسطہ اس میں شامل ہیں یا پاکستانیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس میں شامل ہیں اگر یہ نہیں ہے تو  اسکی پلاننگ یا تیاری پاکستان میں کی گئی ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان سارے واقعات  کے تانے بانے ایک مخصوص سوچ و فکر رکھنے والے مدارس اور تبلیغی '' مراکز'' سے ملتے ہیں جو ہمارے ملک میں سر عام دھندناتے پھرتے ہیں اور جنکے بھیانک چہروں کو عام پاکستانیوں سمیت پوری دنیا جانتی اور پہچانتی ہے لیکن انکو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ آج دنیا ہمارے ملک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ  اور ان مدارس کو دہشت گردی، انتہا پسندی ،عسکریت پسندی اور مذہبی جنونیت کی تربیت گاہ کے طور پر پکارتی ہے ۔ دنیا بھر میں یہ خطرناک پہچان حاصل کرنیکی وجوہات ٹھوس ہیں جنہیں ہمیں ماننا اور جاننا ہوگا ۔آج  ایک طرف آپریشن ضرب ِ عضب کے تحت ہماری فوج اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہے ،بہادر فوجی جوان اپنے خون سے ایک طرف پاکستان کے اندرونی دشمنوں سے برسرپیکار ہیں تو دوسری طرف ازلی دشمن کو للکار رہے ہیں۔ ملک و قوم کے اربوں کے اثاثے دہشت گردی کی نظر ہو چکے ہیں لیکن ہماری سیاسی جماعتیں نیشنل ایکشن پلان کا مذاق اڑاتے ہوئے دہشت گردوں کے سرغنہ اور ریاست کی رٹ اور اسکے مقدس آئین کو چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کی نہ صرف پشت پناہی کر رہی ہیں بلکہ سیاسی مفادات کی آڑ میں ان کالعدم اور ''راہ کفر ''کی تنظیموں کے ساتھ سیاسی و انتخابی اتحاد بنا کر ملکی و قومی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔پاکستان کی اس تاریخی بدنامی ،امتحانی  اور یہاں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی اضطرابی صورتحال کو بھانپتے ہوئے ہمارے اصحاب علم و دانش، قلم و کمان اور صاحبان ِ سیاست و اقتدار کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جب تک اسلام کے نام پر نفرت پھیلانے والوں اور نعرہ ء تکبیر کے ساتھ بے گناہ لوگوں کے گلے کاٹنے اور انکے سروں کو فٹ بال بنا کر کھیلنے والوں ،  لاشوں کی بے حرمتی، مسجدوں، مندروں، چرچوں، امام باگاہوں، خانقاہوں، سفارتخانوں، تعلیمی اداروں اور دیگر پبلک مقامات پربے گناہ لوگوں کا خون بہانے والوں اور ان سفاک درندوں کے سہولت کاروں، پشت پناہوں ، ہمدردوں، معاونوں ، حمائیتیوں اور ''جہاد النکاح'' کے شائقین اور ''خلافت''  کا نظام قائم کرکے'' امیر المومنین'' اور''امہات المومنین'' بننے  والوں کے خلاف بل صفائی اور کتا مار مہم نہیں چلائی جاتی تب تک اس ملک میں قیام امن کا خواب ادھورا رہے گا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲